اے ڈی اظہر
1900-1974 | کراچی، پاکستان
اردو مزاحیہ شاعر
اے ڈی اظہر (پیدائش: 18 اپریل، 1900ء – وفات: 24 فروری، 1974ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر اور سول سرونٹ تھے۔
| اے ڈی اظہر | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائشی نام | (اردو میں: احمد الدین اظہر) |
| پیدائش | 18 اپریل 1900ء سیالکوٹ ، برطانوی پنجاب |
| وفات | 24 فروری 1974ء (74 سال) کراچی ، پاکستان |
| مدفن | گورا قبرستان، کراچی |
| شہریت | برطانوی ہند پاکستان |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | شاعر |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| شعبۂ عمل | غزل ، نظم |
| ملازمت | حکومت پاکستان |
حالات زندگی
اے ڈی اظہر 18 اپریل، 1900ء میں سیالکوٹ، صوبہ پنجاب، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل اور پورا نام احمد الدین اظہر تھا۔ وہ متعدد اعلیٰ حکومتی مناصب پر فائز رہے، اس کے ساتھ سنجیدہ اور فکاہیہ شاعری کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری رکھا۔ ان کے کلام کے تین مجموعے لذتِ آوارگی، گریہ پنہاں اور احوالِ واقعی کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔
تصانیف
- لذتِ آوارگی
- گریہ پنہاں
- احوالِ واقعی
وفات
اے ڈی اظہر 24 فروری، 1974ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی کے گورا قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کے فرزند اسلم اظہر پی ٹی وی کے بانیوں میں سے ہیں،
نمونہ کلام:
غزل
| یہ بات ان کی طبیعت پہ بار گزری ہے |
| کہ زندگی مری کیوں خوشگوار گزری ہے |
| خوشی سے زندگیٔ غم گزارنے والو |
| خزاں تمہارے ہی دم سے بہار گزری ہے |
| نہیں اٹھائے ہیں اپنوں کے بھی کبھی احساں |
| ہزار شکر کہ بیگانہ وار گزری ہے |
| دل غریب کو گھر کا ہوا نہ چین نصیب |
| اسے تو عمر سر رہ گزار گزری ہے |
| نشیمن اپنا ہے پھر برق و باد سے سرشار |
| نئی بہار بھی کیا سازگار گزری ہے |
| کوئی مسرت لذت مجھے نہ درد کا غم |
| مری تو زیست ہی مستانہ وار گزری ہے |
| یہ سادگی تو ذرا دیکھیے وہ پوچھتے ہیں |
| کہ زندگی تری کیوں بے قرار گزری ہے |
| میں اپنے دعوائے الفت سے آج باز آیا |
| گزر گئی ہے مگر شرمسار گزری ہے |