ایاز صدیقی
1932-2023 | ملتان ، پاکستان
پاکستانی شاعر
| ایاز صدیقی | |
| معلومات شخصیت | |
| نام | ایاز صدیقی |
| پیدائش | اگست 1932ء | روہتک ، انڈیا |
| وفات | 3 فروری 2023ء | ملتان، پاکستان |
| عمر | 93 سال |
| رشتہ دار | حزیں صدیقی کے چھوٹے بھائی |
| فن | مصنف |
| اصناف ادب | شاعری، تنقید |
| زبان | اردو، فارسی |
| شہریت | پاکستان |
حالات زندگی
ایاز صدیقی کا شمار اردو غزل اور نعت کے نام ور شعرا میں ہوتا تھا ۔ان کے دو شعری مجموعے ” ثنائے محمد “ ( غالب کی زمینوں نعتیہ مجموعہ ) اور ” نقد ہنر ( غزلوں کا مجموعہ شائع ہوئے ۔ایاز صدیقی9 اگست 1932 ءکو مشرقی پنجاب کے علاقے روہتک میں پیدا ہوئے۔ ایاز صدیقی نے اپنے بڑے بھائی کی رہنمائی میں شعری سفر کا آغاز کیا ۔ ایاز صدیقی کے پسماندگان میں دو بیٹے منصور اور شارق اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں
ایاز صدیقی بینکنگ کے شعبے سے وابستہ تھے ۔ وہ ایک وضع دار اور تہذیبی شخصیت کے طور پر احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے ۔
تصانیف
- ثنائے محمد (نعتیں)
- نقد ہنر (غزلیں)
نمونہ کلام
نعت شریف
| آپﷺ آئے نفرتیں سر در گریباں ہو گئیں |
| بزمِ جاں میں پیار کی شمعیں فروزاں ہو گئیں |
| آپﷺ کی کملی سے پھوٹی ایک لاہوتی کرن |
| ہر طرف انوار کی پَریاں پَر افشاں ہو گئیں |
| اللہ اللہ آپکے نقشِ قدم کی برکتیں |
| سجدہ گاہِ قدسیاں طیبہ کی گلیاں ہو گئیں |
| جنتِ تخیل میں گویا دبستاں کھل گیا |
| میں ہُوا مدحت سرا ، حوریں ثنا خواں ہو گئیں |
| میرا کیا بگڑا، کہ ہوں آسودۂ عشقِ رسول |
| گردشیں مجھ سے الجھ کر خود پریشاں ہو گئیں |
| پھر مدینے کو گئے حُجاج میں پھر رہ گیا |
| حسرتیں پھر حلقہ ہائے دامِ ہجراں ہو گئیں |
| کیا دعا مانگیں ایاز اب جالیوں کو چوم کر |
| ”یاد تھیں جتنی دعائیں صرفِ درباں ہو گئیں“ |
غزل
| فلک نے سانس لینے کا بھی اس میں دَم نہیں رکھا |
| خوشی کے دور میں جس نے خیالِ غم نہیں رکھا |
| تمہارے شہر میں کوئی نہیں پُرسانِ حال اپنا |
| کسی نے زخمِ دل پر پیار کا مرہم نہیں رکھا |
| مِرے صبر و تحمل پر زمانہ رشک کرتا ہے |
| مصائب میں بھی میں نے آنکھ کو پُر نم نہیں رکھا |
| زمیں بھی ہم عِناں میری، فلک بھی ہم سفر میرا |
| مرے اللہ نے مجھ کو کسی سے کم نہیں رکھا |
| ابھی شاید مِرے لفظوں میں سچائی نہیں اتری |
| ابھی میرے پیالے میں کسی نے سم نہیں رکھا |
| تِری جمیعتِ خاطر کا ہر دَم پاس رکھا ہے |
| مزاجِ زیست کو میں نے کبھی برہم نہیں رکھا |
| لبِ خاموش سے گویا ہوئے یا چشمِ گریاں سے |
| سوالِ آرزو ہم نے کبھی مبہم نہیں رکھا |
| عدم آباد کی جانب چلے تو ہیں مگر ہم نے |
| نظر میں جادہء ہستی کا پیچ و خم نہیں رکھا |
| خوشی ہو یا الم ہو ہم نے اپنے آپ کو یارب |
| کسی عاَلم میں بھی بیگانہء عالَم نہیں رکھا |
| قیامت تک نہ ہونگے منزلِ مقصود سے واصل |
| اگر ہم نے یقیں محکم عمل پیہم نہیں رکھا |
| ایاز اللہ کی مجھ پر یہ کتنی مہربانی ہے |
| کہ رازِ زندگی سے مجھ کو نا محرم نہیں رکھا |