احمد بشیر
(1923—2004) لاہور ، پاکستان
معروف پاکستانی دانشور، مصنف اور نقاد
احمد بشیر (24 مارچ 1923 – 25 دسمبر 2004) پاکستان کے معروف صحافی، ادیب، دانشور اور فلم ہدایت کار تھے۔
| احمد بشیر | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 24 مارچ 1923ء، گوجرانوالہ |
| وفات | 25 دسمبر 2004ء (81 سال)، لاہور |
| شہریت | پاکستان، برطانوی ہند |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | صحافی، فلم ہدایت کار، ادبی نقاد |
| پیشہ ورانہ زبان | پنجابی، اردو |
| اعزازات | |
| تمغائے حسن کارکردگی | |
پیدائش و ابتدائی زندگی
وہ 24 مارچ 1923 کو برِصغیر کے پنجاب کے ضلع گجرانوالہ کے قریب ایمن آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اداکاری کے لیے بمبئی کا رخ کیا لیکن جلد ہی صحافت اور ادبی پیشے کی طرف راغب ہو گئے۔
ذاتی زندگی
ان کی بیٹیاں بشریٰ انصاری، اسما عباس، سنبل شاہد معروف ٹیلی ویژن فنکار ہیں، اور نیلم احمد بشیر ادیبہ ہیں۔
پیشہ ورانہ خدمات
پاکستان کی آزادی کے بعد انہوں نے کئی اخباروں میں کام کیا، خاص طور پر روزنامہ “امروز” میں بطور سب ایڈیٹر رہ کر اردو صحافت میں فیچر رائٹنگ کا آغاز کیا۔
انہوں نے ہالی وڈ سے فلم ڈائریکشن کی تربیت حاصل کی اور پاکستان میں کچھ دستاویزی فلمیں بنائیں۔ انہوں نے 1969 کی فلم “نیلا پربت” بھی ہدایت کی، جو باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی۔
ادبی خدمات
بشیر نے ادبی دنیا میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ’جو ملے سن راستے وچ’ اور ’دل بھٹکے گا’ جیسی کتابیں لکھیں جس میں ادبی شخصیات پر قلمی خاکے شامل ہیں۔ وہ مشہور ادیبوں ممتاز مفتی اور ابنِ انشا کے قریبی دوست بھی تھے۔
اعزازات
انہیں تمغاِ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔
وفات
وہ 25 دسمبر 2004 کو لاہور میں جگر کے کینسر کے عارضے کے باعث انتقال کر گئے۔