آسی خانپوری
1943-2004 | رحیم یار خان
شاعر ، افسانہ نگار، محقق
| آسی خان پوری | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | نیاز احمد |
| قلمی نام | آسی خانپوری |
| پیدائش | 1943 | رحیم یار خان |
| وفات | 2004 | لاہور |
| پیشہ | وکالت |
| فن | شاعری، افسانہ نگاری ، تحقیق |
| زبان | اردو پنجابی |
| شہریت | پاکستانی |
ادبی خدمات
نیاز آسی خان پور ی پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے۔ ادبی تقاریب کر انے میں بہت فعال رہے۔ پہلے نثر میں پھر نظم میں طبع آزمائی کی۔ سہیل اختر بہاول پور سے اصلاح لیتے رہے۔ پنجابی اور اُردو میںشاعری کی۔آسی خانپوری نے غزل میں سماجی مسائل کے اظہار کر کے حسن کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری میں داخلی اور خارجی کیفیات کے منفرد رنگ ملتے ہیں۔آسی ؔ خان پوری نے بہت عمدہ شاعری کی ہے جیسیلفظوں کو نگینوں کی طرح جوڑ دیا گیا ہو۔ آسیؔ خان پوری کی غزل میں سماجی روّیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا گہرا ادراک ملتا ہے۔ ان کی شاعری سچے جذبوں اور گہرے مشاہدے کا اظہار ہے۔ان کے ہاں جدت، تازہ کاری اور فن کی پختگی بہت نمایاں ہیں۔شعری مجموعے ’’موسم یہ خزاں جیسا‘‘(ادارہ مطبوعات اَدوار1989ء) اور’ ’چلو اب چھو ڑدو رنجش‘‘(الحمد پبلشرز لاہور، 1999ء)میں شائع ہو چکے ہیں۔ بچوں کی نظموں پر مشتمل مجموعہ’ ’صلح کے بعد‘‘ بھی منظر عام پر آچکا ہے۔ایک اُردو ناول’’شرارِ سنگ‘ ‘اور پنجابی مجموعہ’ ’انگیار‘‘بھی شائع ہو چکا ہے ۔ خان پور سے ادبی پر چہ’’اَدوار‘‘ بھی نکالتے رہے۔
تصانیف
- انگیار
- شرار سنگ
- صلح کے بعد
- موسم یہ خزاں جیسا
- چلو اب چھوڑ دو رنجش
وفات
2004 ء میں خان پور سے لاہور منتقل ہو گئے۔کچھ سال قبل لاہور میں وفات پا گئے ہیں۔
نمونہ کلام
حمد
| زمیں تیری فلک تیرا ، تو مالک ہے بہاروں کا |
| تری قدرت سے سارا سلسلہ ہے کھلتے پھولوں کا |
| جو تو چاہے تو شاخوں کو ملیں پتے نئی رُت میں |
| جو تو چاہے تو اجڑا باغ مہکے پھر گلابوں کا |
| جو تو چاہے تو مٹی بھی بنے سونا زمانے میں |
| جو تو چاہے تو جاگ اُٹھے مقدر تیرہ بختوں کا |
| جو تو چاہے تو قطرے کو کرے اک گوہرِ تاباں |
| جو تو چاہے عطا ہو مرتبہ ذروں کا تاروں کا |
| جو تو چاہے توچشمہ ریگ زاروں سے نکل آئے |
| جو تو چاہے تو جاری سلسلہ ہو آبشاروں کا |
| جو تو چاہے تو بھر جائے مری اُمید کادامن |
| جو تو چاہے تو ہو آباد میرا شہر خوابوں کا |
غزل
| کیسے کیسے راستوں سے ہم گزر کر آئے ہیں |
| دیکھ کر چہروں پہ گردِ راہ اندازہ ہوا |
| کیسی کیسی خواہشوں کے ہم تعاقب میں رہے |
| اپنی محرومی کو دیکھا تو اندازہ ہوا |
| راہ میں چلتے ہوئے کیوں رک گئے میرے قدم |
| خامشی کے دشت میں یہ کیسا آوازہ ہوا |