نصرت صدیقی
1942 | فیصل آباد ، پنجاب
اردو شاعر
| نصرت صدیقی | |
| معلومات شخصیت | |
| نام | نصرت صدیقی |
| پیدائش | اگست 1942ء | حصار مشرقی پنجاب |
| تعلیم | بی-اے |
| پیشہ | ریٹائرڈ ویلفیئر آفیسر |
| فن | شاعری |
| زبان | اردو، پنجابی |
| شہریت | پاکستانی |
| پتہ | فیصل آباد، پنجاب |
نمونہ کلام:
غزل
| فاصلے نہ بڑھ جائیں فاصلے گھٹانے سے |
| آؤ سوچ لیں پہلے رابطے بڑھانے سے |
| عرش کانپ جاتا تھا ایک دل دکھانے سے |
| وہ زمانہ اچھا تھا آج کے زمانے سے |
| خواہشیں نہیں مرتیں خواہشیں دبانے سے |
| امن ہو نہیں سکتا گولیاں چلانے سے |
| دیکھ بھال کر چلنا لازمی سہی لیکن |
| تجربے نہیں ہوتے ٹھوکریں نہ کھانے سے |
| ایک ظلم کرتا ہے ایک ظلم سہتا ہے |
| آپ کا تعلق ہے کون سے گھرانے سے |
| کتنے زخم چھلتے ہیں کتنے پھول کھلتے ہیں |
| گاہ تیرے آنے سے گاہ تیرے جانے سے |
| کارزار ہستی میں اپنا دخل اتنا ہے |
| ہنس دئے ہنسانے سے رو دئے رلانے سے |
| چھوٹے چھوٹے شہروں پر کیوں نہ اکتفا کر لیں |
| کھیتیاں اجڑتی ہیں بستیاں بسانے سے |
| زخم بھی لگاتے ہو پھول بھی کھلاتے ہو |
| کتنے کام لیتے ہو ایک مسکرانے سے |
| اور بھی سنورتا ہے اور بھی نکھرتا ہے |
| جلوۂ رخ جاناں دیکھنے دکھانے سے |
| جب تلک نہ ٹوٹے تھے خیر و شر کے پیمانے |
| وہ زمانہ اچھا تھا آج کے زمانے سے |
| ہر طرف چراغاں ہو تب کہیں اجالا ہو |
| اور ہم گریزاں ہیں اک دیا جلانے سے |
| چاند آسماں کا ہو یا زمین کا نصرتؔ |
| کون باز آتا ہے انگلیاں اٹھانے سے |
غزل
| اپنے حالات کے دھاگوں سے بنی ہے میں نے |
| آج اک تازہ غزل اور کہی ہے میں نے |
| کس ضرورت کو دباؤں کسے پورا کر لوں |
| اپنی تنخواہ کئی بار گنی ہے میں نے |
| چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے اکثر |
| ایک تکلیف کئی بار سہی ہے میں نے |
| زندگی نے مجھے سینے سے لگا رکھا ہے |
| جان جس دن سے ہتھیلی پہ دھری ہے میں نے |
| میں تو جیسا بھی ہوں سب لوگ مجھے جانتے ہیں |
| تیرے بارے میں بھی اک بات سنی ہے میں نے |
| اپنے عیبوں کو عیاں کر کے خجل ہوں لیکن |
| یہ جسارت بھی اگر کی ہے تو کی ہے میں نے |
| میرے شعروں میں دھڑکتا ہے مرے عہد کا دل |
| شاعری کی ہے کہ تاریخ لکھی ہے میں نے |
| ایک سے دوسرا انسان جدا ہے نصرتؔ |
| ہر جبیں پہ نئی تحریر پڑھی ہے میں نے |