محمد طاہرالقادری
1951 | جھنگ ، پاکستان
پاکستانی عالم اور مصنف
| محمد طاہر القادری | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 19 فروری 1951ء (75 سال ) جھنگ |
| رہائش | کینیڈا (2006–) |
| شہریت | پاکستان کینیڈا |
| مذہب | اسلام |
| جماعت | پاکستان عوامی تحریک |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | جامعہ پنجاب |
| پیشہ | سیاست دان ، مترجم ، مصنف ، عالم |
| مادری زبان | اردو |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| ملازمت | پنجاب یونیورسٹی لا کالج |
| مؤثر | محمد اقبال ، رومی ، طاہر علاؤ الدین قادری گیلانی ، جلال الدین سیوطی ، احمد رضا خان ، ابن عربی |
| تحریک | منہاج القرآن ، اہل سنت ، تصوف |
محمد طاہر القادری 19 فروری 1951ء کو پاکستان کے شہر جھنگ میں پیدا ہوئے۔ طاہر القادری کے والد فرید الدین قادری کا شمار اہل سنت کے بڑے علما میں ہوتا تھا۔ طاہر القادری نے ابتدائی تعلیم اپنے شہر جھنگ سے ہی حاصل کی۔ سنہ 1968ء میں آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج فیصل آباد سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے پنجاب یونیورسٹی لاہور گئے جہاں سے اسلامیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ شعبہ قانون میں ایل ایل بی کیا۔ سنہ 1986ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اسلامی فلسفہ عقوبات کے موضوع پر اسلامی قانون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ طاہر القادری نے سنہ 1974ء کو میانوالی کی گورنمنٹ کالج میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ پنجاب یونیورسٹی میں بھی قانون کے استاد رہے۔ آپ نے اپنے والد سے دورہ حدیث مکمل کیا اور سید احمد کاظمی (ملتان) اور لبنان کے عالم دین یوسف بن اسماعیل نبہانی سے اجازت روایت حاصل کیا۔ قادری بچپن سے ہی تصوف کی طرف راغب تھے اور مختلف اساتذہ سے تصوف میں کسب فیض کیا۔ آپ کا شمار حنفی مسلک کے دانشوروں میں ہوتا ہے۔ (Royal islamic Strategic Studies Center) رائل اسلامک اسٹریٹیجیک سٹڈی سنٹر نے طاہر القادری کو عالم اسلام کی 500 بااثر شخصیات کی فہرست میں شامل کیا۔
تصانیف
آپ کی متعدد تالیفات زیور طبع سے آراستہ ہوچکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ طاہر القادری نے قرآنی علوم پر 28، علوم الحدیث پر 79، ایمانیات و اعتقادیات پر 74، عبادات کے موضوع پر 12، سیرت الرسول و فضائل نبویؐ پر 60، صحابہ و صحابیات اور اہل بیت اطہارؑ و اولیاء و صالحین پر 33، ختم نبوت و تقابل ادیان پر 7، فقہ پر 15، اخلاق و تصوف پر 23، اوراد و وظائف پر 15، اقتصادیات پر 10، نظریہ و فکر پر 46، دستور و قوانین پر 11، اسلام اور سائنس پر 6، امن و محبت اور رد تشدد پر 17، حقوق انسانی پر 7 اور تعلیمات اسلامی پر 11 کتابیں تحریر کی ہیں۔ مذکورہ تالیفات کے علاوہ مختلف ممالک میں کی جانے والی آپ کی متعدد تقاریر بھی تحریری صورت میں موجود ہیں۔ آپ نے عرفان القرآن کے نام سے قرآن مجید کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ تفسیر منہاج القرآن کے نام سے آپ تفسیر بھی لکھ رہے ہیں۔