محشر بدایونی
اردو زبان کے مشہور شاعر
نعت گو شاعر منور بدایونی کے چھوٹے بھائی
محشر بدایونی (پیدائش: 4 مئی 1914ء – وفات: 9 نومبر 1994ء) پاکستان سے تعلق رکھنے و الے اردو زبان کے نامور شاعر تھے۔
| محشر بدایونی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 4 مئی 1922ء بدایوں ، اتر پردیش ، برطانوی ہند |
| وفات | 9 نومبر 1994ء (72 سال) کراچی ، سندھ ، پاکستان |
| مدفن | سخی حسن قبرستان |
| شہریت | برطانوی ہند پاکستانی پاکستان |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | شاعر ، اردو |
| کارہائے نمایاں | غزل ، نعت |
حالات زندگی
محشر بدایونی 4 مئی، 1914ء کو بدایوں، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام فاروق احمد تھا۔ انھوں نے بدایوں سے ہی تعلیم حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کے جریدے آہنگ سے منسلک ہو گئے۔ محشر بدایونی کا شمار اردو کے ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔ غزل ان کی محبوب صنف سخن تھی۔ ان کی تصانیف میں شہر نوا، غزل دریا، گردش کوزہ، فصل فردا، چراغ ہم نوا، حرف ثنا، شاعر نامہ، سائنس نامہ اور بین باجے کے نام شامل ہیں۔
تصانیف
- شاعرنامہ (53 شعرا کا منظوم تذکرہ)
- شہر نو (شاعری)
- حرف ثناء (نعتیں)
- غزل دریا (شاعری)
- گردش ِکوزہ (شاعری)
- فصل فردا
- چراغ ہم نوا
- سائنس نامہ
- بین باجے
وفات
محشر بدایونی 9 نومبر، 1994ء کو کراچی، پاکستان میں 80 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
نمونۂ کلام
غزل
| آخر آخر ایک غم ہی آشنا رہ جائے گا |
| اور وہ غم بھی مجھ کو اک دن دیکھتا رہ جائے گا |
| سوچتا ہوں اشک حسرت ہی کروں نذر بہار |
| پھر خیال آتا ہے میرے پاس کیا رہ جائے گا |
| اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ |
| جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا |
| آج اگر گھر میں یہی رنگ شب عشرت رہا |
| لوگ سو جائیں گے دروازہ کھلا رہ جائے گا |
| تا حد منزل توازن چاہئے رفتار میں |
| جو مسافر تیز تر آگے بڑھا رہ جائے گا |
| گھر کبھی اجڑا نہیں یہ گھر کا شجرہ ہے گواہ |
| ہم گئے تو آ کے کوئی دوسرا رہ جائے گا |
| روشنی محشرؔ رہے گی روشنی اپنی جگہ |
| میں گزر جاؤں گا میرا نقش پا رہ جائے گا |