سید مسعود حسن رضوی ادیب
1893-1975 | لکھنؤ ، انڈیا
معروف اردو نقاد
| سید مسعود حسن رضوی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1893ء لکھنؤ |
| تاریخ وفات | سنہ 1975ء (81–82 سال) |
| شہریت | بھارت (26 جنوری 1950–) برطانوی ہند (–14 اگست 1947) ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950) |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | لکھنؤ یونیورسٹی |
| پیشہ | مترجم ، مصنف |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| اعزازات | |
| ساہتیہ اکادمی انعام (برائے:اردو ڈراما اور اسٹیج ) (1959) پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم | |
حالات زندگی
اردو ادب کے محقق اور نقاد۔ پیدائش 29 جولائی 1893ء کو محلہ ناظر پورہ شہر بہرائچ میں ہوئی۔ اور ان کا نام محمد مسعود رکھا گیا عرفیت ننھے قرار پائی،کیوں کہ وہ جسمانی طور پر بہت کمزور اور منحنی تھے، لیکن ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے انھوں نے اپنے نام میں تبدیلی کر لی اور اپنا نام سید مسعود حسن رکھ لیا جس میں بعد میں رضوی اور پھر ادیب کا اضافہ ہوا۔ ادب سے ان کی دلچسپی اسکول کے ہی زمانے میں شروع ہو گئی تھی کیوں کہ انھوں نے ایک بیاض تیار کی جس کا عنوان تھا ”اشعار برائے بیت بازی۔“ اس کتاب میں الف سے لے کر ے تک حروف تہجی کے اعتبار سے اشعار درج تھے۔ یہ ان کی پہلی تالیف تھی جو صرف تیرہ برس کی عمر میں تیار ہوئی، جس وقت وہ پانچویں درجہ کے طالب علم تھے۔ وہ بیت بازی کے مقابلوں میں تنہا پوری جماعت کو ہرا دیا کرتے۔ طالب علمی کے ہی زمانے میں انھیں امانت کی اندر سبھا کے بہت سے حصے زبانی یاد تھے جو کبھی کبھی اسکول میں وہ ترنم سے سنایا کرتے تھے۔ امانت کی اندر سبھا سے دلچسپی کا ہی نتیجہ تھا کہ انھوں نے بعد میں’لکھنئو کا عوامی اسٹیج‘ جیسی گراں قدر کتاب لکھی۔ جسے اردو ڈراموں میں سنگِ میل کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے۔
تصانیف
سنہ 1915ء سے 1917ء تک وہ کیننگ کالج کے طالب علم رہے اور اس کے بورڈنگ ہاؤس کے ساتھیوں میں علی عباس حسینی اور مرزا حامد حسین وغیرہ ادب کے مطالعے میں غرق رہتے تھے۔ ان میں ادبی موضوعات پر گرما گرم بحثیں ہو تی تھیں۔ جن میں مرزا محمد ہادی رسوا، مولانا بے خود موہانی اور مرزا یاس یگانہ چنگیزی شریک ہو تے تھے۔ ان اہل قلم نے ادیب کے ذہن کو وسعت دی۔ بی اے پاس کرنے کے بعد ادیب نے ریاستی حکومت کے محکمہٴ تعلیم میں ملازمت اختیار کر لی اور ملازمت کے دوران میں ہی انھوں نے پہلی کتاب سنہ 1920”امتحان وفا“ شائع کی جو لارڈ ٹینی سن کے ایک منظوم انگریزی قصے اینوک آرڈن (Enoch Arden) کا اردو نثر میں ترجمہ ہے۔ انھوں نے گولڈ اسمتھ کی نظموں کا بھی اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ سنہ 1922میں وہ لکھنئو یونیورسٹی میں اردو کے لکچرر ہوئے اور اس کے بعد وہیں سے سبک دوش ہوئے۔ انھیں کتابیں جمع کرنے کا بے حد شوق تھا اور اس شوق نے ہی ان کے گھر کو ایک لائبریری میں تبدیل کر دیا ۔ مسعود حسن رضوی ادیب کا سب سے بڑا کارنامہ اردو ڈراما اور اسٹیج ابتدائی دور کی مفصل تاریخ ہے۔ جس میں انھوں نے اردو ڈرامے کو پوری تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے امانت کی اندر سبھا اور واجد علی شاہ کی کتابوں کی بھی تدوین کی ہے۔ میر تقی میر پر بھی ان کا کام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مسعود حسن رضوی ادیب کئی کتابوں کے مصنف تھے۔
وفات
مسعود حسین رضوی ادیب 60برسوں تک لکھتے پڑھتے رہے اور مضامین نو کے انبار لگا دیے۔ اس نابغہ روزگار شخصیت کا 29نومبر سنہ 1975ء کو لکھنئو میں کتابوں کے اس ذخیرے میں ہی انتقال ہوا جہاں بیٹھ کو وہ لکھا پڑھا کرتے تھے۔