سحر انصاری
1939 | کراچی ، پاکستان
اردو زبان کے ممتاز نقاد
جدید غزل کے اہم شاعر
پروفیسر سحر انصاری (ولادت: 1939ء) اردو زبان کے ممتاز نقاد، جدید اردو غزل کے اہم شاعر اور ادیب تھے۔
| سحر انصاری | |
| معلوماتِ شخصیت | |
| پیدائش |
27 دسمبر 1939ء (87 سال) اورنگ آباد |
| شہریت | پاکستان |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | ماہرِ لسانیات، شاعر، ادبی نقاد، پروفیسر |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| اعزازات | |
| تمغۂ امتیاز | |
حالات زندگی
نام انور مقبول انصاری اور تخلص سحر ہے۔۲۷؍دسمبر ۱۹۳۹ء کو اورنگ آباد ، دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن مرادآباد ہے۔۱۹۵۰ء میں اپنے والدین کے ساتھ کراچی آگئے۔۱۹۵۸ء میں گورنمنٹ کالج ناظم آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد جامعہ کراچی سے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں ایم اے کیا۔ کراچی یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو رہے۔ بعدازاں اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔ انھوں نے انگریزی کے ترجموں کے ذریعے دنیا کی بیشتر زبانوں کا مطالعہ کیا ہے۔ نظم کے علاوہ نثر میں بہت کچھ لکھا ہے۔ تنقید انھیں زیادہ پسند ہے۔ سحر انصاری کو شعر وادب کا ذوق اپنے خاندان سے ورثے میں ملا۔ شاعری میں جالب مرادآبادی کے شاگرد ہیں جو جگر مرادآبادی کے معاصر تھے۔
تصانیف
- نمود (شاعری)
- خدا سے بات کرتے ہیں (شاعری )
- انفاس سحر (شاعری)
- ناسخ حیات اور شاعری (پی ایچ ڈی مقالہ)
- فیض کے آس پاس (سوانح حیات فیض احمد فیض)
اعزازات
حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں 2015ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔