رئیس امروہوی
1914-1988 | کراچی ، پاکستان
معروف پاکستانی شاعر اور ادیب
سید محمد مہدی المعروف رئیس امروہوی برصغیر کے بلند پایہ شاعر، ممتاز صحافی اور ماہرمرموز علوم تھے۔
| رئیس امروہوی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 12 ستمبر 1914 امروہہ، برطانوی ہند۔ |
| تاریخ وفات | 22 ستمبر 1988 (عمر 74 سال) |
| شہریت | پاکستان برطانوی ہند |
| والد | شفیق حسن ایلیا |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | شاعر، صحافی ماہر نفسیات |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| اعزازات | |
| تمغائے حسن کارکردگی | |
حالات زندگی
آپ 12 ستمبر 1914ء کو یوپی کے شہر امروہہ کے علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔1936 میں صحافت سے وابستہ ہوئے، ابتدا میں امروہہ کے اخبارات قرطاس اور مخبر عالم کی ادارت کی۔ بعد ازاں روزنامہ جدت (مرادآباد) کے مدیر اعلیٰ رہے۔ آپ سید محمد تقی اور جون ایلیا کے بڑے بھائی تھے۔ تقسیم ہند کے بعد 19 اکتوبر 1947ء کو ہجرت کر کے کراچی آ گئے اور روزنامہ جنگ سے منسلک ہونے کے بعد یہاں مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ کی ادارت میں جنگ پاکستان کاسب سے کثیرالاشاعت روزنامہ بن گیا۔ صحافتی کالم کے علاوہ آپ کے قصائد، نوحے اور مثنویاں اردو ادب کا بیش بہا خزانہ ہیں۔ نثر میں آپ نے نفسیات و فلسفۂ روحانیت کو موضوع بنایا۔ 22 ستمبر 1988ء کو آپ نے اس دنیا سے کوچ کیا۔
تصانیف
آپ کی اہم شعری تصانیف یہ ہیں۔
- مثنوی لالہ صحرا
- پس غبار
- قطعات (حصہ اول و دوم)
- حکایت
- بحضرت یزداں
- انا من الحسین
- ملبوس لباس بہار
- آثار
جبکہ نثری تصانیف یہ ہیں۔
- نفسیات و مابعد النفسیات ( 3 جلدیں)
- عجائب نفس ( 4 جلدیں)
- لے سانس بھی آہستہ ( 2 جلدیں)
- جنسیات ( 2 جلدیں)
- عالم برزخ ( 2 جلدیں)
- حاضرات ارواح
- اچھے مرزا
نمونہ کلام
غزل
| خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم |
| گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم |
| صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے |
| صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم |
| ذرے کے زخم دل پہ توجہ کئے بغیر |
| درمان درد شمس و قمر کر رہے ہیں ہم |
| ہر چند ناز حسن پہ غالب نہ آ سکے |
| کچھ اور معرکے ہیں جو سر کر رہے ہیں ہم |
| صبح ازل سے شام ابد تک ہے ایک دن |
| یہ دن تڑپ تڑپ کے بسر کر رہے ہیں ہم |
| کوئی پکارتا ہے ہر اک حادثے کے ساتھ |
| تخلیق کائنات دگر کر رہے ہیں ہم |
| اے عرصۂ طلب کے سبک سیر قافلو |
| ٹھہرو کہ نظم راہ گزر کر رہے ہیں ہم |
| لکھ لکھ کے اشک و خوں سے حکایات زندگی |
| آرائش کتاب بشر کر رہے ہیں ہم |
| تخمینۂ حوادث طوفاں کے ساتھ ساتھ |
| بطن صدف میں وزن گہر کر رہے ہیں ہم |
| ہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے رئیسؔ |
| یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم |
غزل
| دل کو احساس کی شدت نے کہیں کا نہ رکھا |
| خود محبت کو محبت نے کہیں کا نہ رکھا |
| بوئے گل اب تجھے احساس ہوا بھی کہ تجھے |
| تیری آوارہ طبیعت نے کہیں کا نہ رکھا |
| تم کو ہر شخص سے ہے چشم مروت کی امید |
| تم کو اس چشم مروت نے کہیں کا نہ رکھا |
| ہم وہ ہیں جن کو تماشہ کدۂ ہستی میں |
| جلوۂ عالم حیرت نے کہیں کا نہ رکھا |
| نگہ شوق کسی شے پہ ٹھہرتی ہی نہیں |
| اس بصارت کو بصیرت نے کہیں کا نہ رکھا |
| پہلے یہ شکر کہ ہم حد ادب سے نہ بڑھے |
| اب یہ شکوہ کہ شرافت نے کہیں کا نہ رکھا |
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ( نظم)
| کیوں جان حزیں خطرہ موہوم سے نکلے |
| کیوں نالۂ حسرت دل مغموم سے نکلے |
| آنسو نہ کسی دیدۂ مظلوم سے نکلے |
| کہہ دو کہ نہ شکوہ لب مغموم سے نکلے |
| اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے |
| اردو کا غم مرگ سبک بھی ہے گراں بھی |
| ہے شامل ارباب عزا شاہ جہاں بھی |
| مٹنے کو ہے اسلاف کی عظمت کا نشاں بھی |
| یہ میت غم دہلی مرحوم سے نکلے |
| اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے |
| اے تاج محل نقش بہ دیوار ہو غم سے |
| اے قلعۂ شاہی یہ الم پوچھ نہ ہم سے |
| اے خاک اودھ فائدہ کیا شرح ستم سے |
| تحریک یہ مصر و عرب و روم سے نکلے |
| اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے |
| سایہ ہو جب اردو کے جنازے پہ ولیؔ کا |
| ہوں میر تقیؔ ساتھ تو ہم راہ ہوں سوداؔ |
| دفنائیں اسے مصحفیؔ و ناسخؔ و انشاؔ |
| یہ فال ہر اک دفتر منظوم سے نکلے |
| اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے |
| بد ذوق ہے احباب سے گو ذوقؔ ہیں رنجور |
| اردوئے معلیٰ کے نہ ماتم سے رہیں دور |
| تلقین سر قبر پڑھیں مومنؔ مغفور |
| فریاد دل غالبؔ مرحوم سے نکلے |
| اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے |
| ہے مرثیہ خواں قوم ہیں اردو کے بہت کم |
| کہہ دو کہ انیسؔ اس کا لکھیں مرثیۂ غم |
| جنت سے دبیرؔ آ کے پڑھیں نوحۂ ماتم |
| یہ چیخ اٹھے دل سے نہ حلقوم سے نکلے |
| اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے |
| اس لاش کو چپکے سے کوئی دفن نہ کر دے |
| پہلے کوئی سرسیدؔ اعظم کو خبر دے |
| وہ مرد خدا ہم میں نئی روح تو بھر دے |
| وہ روح کہ موجود نہ معدوم سے نکلے |
| اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے |
| اردو کے جنازے کی یہ سج دھج ہو نرالی |
| صف بستہ ہوں مرحومہ کے سب وارث و والی |
| آزادؔ و نذیرؔ و شررؔ و شبلیؔ و حالیؔ |
| فریاد یہ سب کے دل مغموم سے نکلے |
| اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے |