Skip to content
ذوالفقار احمد تابش

ذوالفقار احمد تابش

1938 | شیخو پورہ ، پاکستان
پاکستانی شاعر اور مصور

ذوالفقار احمد تابش
معلومات شخصیت
اصل نامذوالفقار احمد
تخلصتابش
قلمی نامذوالفقار احمد تابش
پیدائش19 مئی 1938ء | ڈوگراں ، شیخو پورہ
شہریتپاکستان

حالات زندگی

ذوالفقار احمد تابش ضلع شیخو پورہ کے ایک گاؤں خانقاہ ڈوگراں میں 19 مئی 1938 ء کو پیدا ہوئے۔ والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ کم سنی میں ماں باپ کا سایہ اٹھ گیا تو آپ کے تایا نے آپ کی پرورش کی ذمہ داری نبھائی۔ آپ کے والدین میں جب علیحدگی ہوئی اس وقت آپ کی عمر صرف 2 برس تھی۔ ذوالفقار احمد تابش کی ابتدائی تعلیم ایک نجی سکول کے ماسٹر کندن لال کے زیر سایہ ہوئی۔ ان کے علاوہ ان کے استاد گرامی جناب ضیا الدین نے بھی ان کی تعلیم و تربیت میں حصہ لیا۔ بچپن میں ذوالفقار تابش کو اردو سیکھنے ، اردو کتابیں پڑھنے اور خوشی خطی سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ ماسٹر کندن لال نے اردو رجحان پیدا کیا اور ضاء الدین صدیقی نے خوش خطی میں معاونت کی۔ ان کی ابتدائی زندگی محنت و مشقت سے عبارت ہے۔ نامساعد حالات کی وجہ سے تابش نے 1957ء سے 1958ء تک راج گری کی۔ لاہور کی مشہور و معروف مین مارکیٹ (Main Market) اس وقت تکمیل کے مراحل طے کر رہی تھی۔ آپ وہاں پر پلستر کا کام کرتے رہے۔ آپ نے کافی عرصہ محنت مزدوری کر کے گزر بسر کی۔ انھوں نے اردو شاعری میں مذہبی شاعری کے ساتھ موجودہ حالات کو بھی بیان کیا ہے۔ مذہبی شاعری میں ان کی دو طویل نظمیں اور سلیم الرحمن کے حوالے سے ایک نظم سے انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز کیا۔ تابش نے نثر سفر کا آغاز سفر نامے ” جوار بھاٹا “ سے کیا۔ ان کے شاعری کے مجموعے "لب لرزاں ” میں آزاد نظمیں ہیں، جبکہ ” در نیم وا “ شاعری کا ایک مجموعہ جو 2019 میں سامنے آیا تھا۔ اس میں غزلیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مذہبی شاعری لکھ کر تصوف سے اپنی گہری محبت اور عقیدت کا اظہار کیا ہے۔

ذو الفقار احمد تابش کی ادبی و عملی زندگی کا آغاز 1957ء میں ہوا جب انھوں نے نامساعد حالات کے بعد دوبارہ پڑھائی کرنا چاہی۔ انھوں نے چھٹی ، ساتویں اور آٹھویں جماعت کا یکساں سلیبس پڑھ کر امتحان دیا اور مڈل میں فرسٹ ڈویژن حاصل کی۔ انھوں نے باغبانپورہ لاہور میں Stander is Islamia High School میں داخلہ لیا اور نویں اور دسویں کی ایک ساتھ تیاری کر کے میٹرک میں بھی فرسٹ ڈویژن حاصل کی۔ دیال سنگھ کالج سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ ذوالفقار احمد تابش کو کھیل کود میں دل چسپی نہ تھی ۔ شعر پڑھنے، کہنے ، سنانے، مصوری کرنے سے رغبت نے انھیں مصنف کی بجائے فن تقریر کا ماہر بنا دیا۔ ذوالفقار احمد تابش نے بارہویں جماعت میں ایک فن پارے کا انگلش سے اردو ترجمہ میں کیا۔ سلیم الرحمن صاحب نے اس کاوش کو سراہا۔ 1964ء سے 1966ء تک انھوں نے فیروز سنز سے وابستہ رہے۔ آپ نے اردو سائنس بورڈ میں بھی اعلیٰ عہدے پر کام کیا۔ 1970ء میں اس ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔ 1973ء میں Nation Book Centre میں آفیسر انچارج مقرر ہوئے۔ جب آپ Nation Book Council میں آفیسر انچارج تھے اس دوران میں آپ یونیسکو کی دعوت پر یونان گئے جہاں ایک سیمینار میں شرکت کی اور واپسی پر سفر نامہ "جوار بھاٹا ” کے نام سے لکھا۔ 1989ء میں آپ آسٹریلیا بھی گئے اور وہاں ایک روحانی سلسلہ "سید” کے SUBUD میں شرکت۔ انھوں نے ایک ناول "خواب گزیدہ” کے نام سے تحریر کیا جو کہ ان کی ذہانت و فطانت کے ساتھ ساتھ ارد گرد کے ماحول کے ساتھ خاصی وابستگی رکھتا ہے۔ مصوری کے فن کو ایک نئے زاویے سے پیش کرنے کے لیے ایک دفعہ 1972ء میں سنگ میل کے نیاز صاحب نے انھیں "دیوان غالب ” مصور کرنے کا کہا۔ اس کام کو انھوں نے بڑی دل جمعی سے انجام دیا۔ لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر یہ دیوان آج تک دنیائے ادب کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ انھوں نے بے شمار اداروں کی کتب کے ٹائٹل بھی بنائے جن کی تعداد کم و بیش 300 کے لگ بھگ ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے ایک شاہکار ناول ”کئی چاند تھے سرے آسمان“ کا ٹائٹل بنانے کا سہر ابھی جناب ذوالفقار احمد تابش کے سر ہے۔


تصانیف

ان کی تصانیف میں ” اعجاز اللغات “ ہے جو سنگ میل پبلشرز کی فرمائش پر تحریر ہوئی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”لب لرزاں“ ہے۔ انھوں نے سب سے پہلے نعتیہ مصرع بچپن میں ہی کہا۔ ان کی طبعیت میں شاعرانہ ذوق بچپن سے ہی تھا۔ ذوالفقار احمد تابش نے ”لب لرزاں“ مجموعہ 1975ء سے 1977ء کے درمیان لکھا، جو مکتبہ تاجور شادمان لاہور نے شائع کیا۔ یہ شعری مجموعہ دو حصوں میں منقسم ہے۔ اس مجموعے کے میں ایک نعت چھوڑ کر باقی نظموں کے عنوانات تو مختلف ہیں لیکن ان کا موضوع ایک ہی ہے۔ ” در نیم وا “ ذوالفقار احمد تابش کا دوسرا شعری مجموعہ ہے جو بیسویں صدی کے آخر میں ظہور پذیر ہوا۔ اس مجموعے میں مذہبی شاعری کو بھر پور انداز سے شامل کیا ہے۔ دو طویل قصائد اور ایک منقبت بھی اس مجموعے کا حصہ ہیں۔ انھوں نے موجودہ حالات پر آواز اٹھانے کی جسارت بھی کی ۔ جس کا منہ بولتا ثبوت فلسطین اور کشمیر کے لیے لکھی جانے والی نظمیں ہیں۔ دو طویل قصائد بحضور سرور کونین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، بحضور فیض گنجور داتا گنج بخش علی ہجویری شامل ہیں۔ انھوں نے منقبت علی بن عثمان داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے حضور پیش کی۔


ذوالفقار احمد تابش کی کتابیں

صفحہ 1

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں