خورشید احمر
پاکستانی شاعر، ادیب
| خورشید احمر | |
| معلومات شخصیت | |
| قلمی نام | خورشید احمر |
| پیدائش | 1940ء | کان پور ، انڈیا |
| فن | شاعر |
| اصناف ادب | شاعری |
| زبان | اردو |
| شہریت | پاکستان |
تصانیف
- شہر چراغاں
نمونہ کلام
نعت شریف
| جب سے غلام ساقئ کوثر ہوا ہوں میں |
| صحرائے تشنہ لب سے سمندر ہوا ہوں میں |
| معراج مصطفی کا ثنا خواں ہے جب سے دل |
| تقدیر روز و شب کا سکندر ہوا ہوں میں |
| جب سے ہوئی ہے نور مجسم کی آگہی |
| تاریکیوں کی قید سے باہر ہوا ہوں میں |
| یک بارگی جو سوئے حرم اٹھ گئی نگاہ |
| مہتاب سے زیادہ منور ہوا ہوں میں |
| خورشید ذرہ ذرہ ہے جس کا چراغ طور |
| اس شہر معرفت کا گدا گر ہوا ہوں میں |
غزل
| جب بھی ہوا سوال کوئی کسی طرح جیے |
| جتنے تھے دل کے زخم وہ سب مسکرا دیے |
| خود آگہی کی دھوپ میں جو چل کے آئے ہیں |
| ان سے مزاج گردش دوراں تو پوچھیے |
| چاہی جو اس نے اپنی وفا کی کوئی دلیل! |
| پہنچے ہیں دشت شوق میں ہم اپنا سر لیے |
| محرومئ حیات کا آئینہ دار ہوں |
| کیسی گزر رہی ہے ابھی کچھ نہ پوچھیے |
| ہم بھی حصار وضع سے آگے نہیں گئے |
| بیٹھے تھے بزمِ ناز میں وہ بھی لیے دیے |
| ہے سلسلہ دراز غم روزگار کا |
| خورشید زلف ناز کا سودا نہ کیجیے |