حزیں لدھیانوی
پاکستانی شاعر
| حزیں لدھیانوی | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | علی حسین |
| قلمی نام | حزیں لدھیانوی |
| پیدائش | 1928ء | فیصل آباد |
| فن | شاعر |
| اصناف ادب | شاعری، تنقید |
| زبان | اردو، پنجابی |
| شہریت | پاکستان |
تصانیف
- لہو کی صدا
- مقتل آرزو
نمونہ کلام
غزل
| شرار دل کے لئے، روشنی نظر کے لئے |
| اثاثہ کچھ تو مجھے چاہئے سفر کے لئے |
| شبوں کے زخم سے سینہ چمن چمن ہے مگر |
| یہ سارے پھول ہیں محبوبہ سحر کے لئے |
| سروں پہ تان کے سورج کی چھتریاں نکلو |
| کہ سائے کی نہ ضرورت رہے سفر کے لئے |
| خزاں کا دور، ستم باغباں کا، سنگ زنی |
| تمام عمر ہیں یہ امتحاں شجر کے لئے |
| نگارِ ظلم کے کتبے لکھیں گے اہلِ قلم |
| ڈگر ڈگر کے لئے اور نگر نگر کے لئے |
| سوئمبروں کی ہیں رسمیں، نہ دورِ تیر و کماں |
| شعور چاہئے اب رزم خیر و شر کے لئے |
| مرے ہنر کی کرن ہے اندھیرے گھر کا چراغ |
| مری نوا کا شرارہ ہے، قصر زر کے لئے |
| کبھی نہ مار سکے جس پہ تیرگی شبخوں |
| کہیں سے لایئے، وہ روشنی بشر کے لئے |
| حزیں اسے بھی سرِ رہگذار لے آئے |
| جو ایک دل کا دیا رہ گیا تھا گھر کے لئے |
غزل
| مواد کر کے فراہم چمکتی سڑکوں سے |
| سجا رہا ہوں غزل کو نئے خیالوں سے |
| چھپی ہے ان میں نہ جانے کہاں کی چیخ پکار |
| بلند ہوتے ہیں نغمے جو روز محلوں سے |
| نظر نہ آئی کبھی پھر وہ گاؤں کی گوری |
| اگرچہ مل گئے دیہات آ کے شہروں سے |
| گزار دیتے ہیں عمریں وہ گھپ اندھیروں میں |
| لٹک رہے ہیں جو بجلی کے اونچے کھمبوں سے |
| سمندر اب تو انہیں اور بے قرار نہ کر |
| گزر کے آئی ہیں لہریں ہزار نہروں سے |
| طلوع ہوگا ابھی کوئی آفتاب ضرور |
| دھواں اٹھا ہے سر شام پھر چراغوں سے |
| حزیںؔ یہ شعلۂ تاباں کبھی نہیں بجھتا |
| میں کیوں حیات کو تشبیہ دوں حبابوں سے |