حبیب احمد صدیقی
اردو شاعر
| حبیب احمد صدیقی | |
| معلومات شخصیت | |
| نام | حبیب احمد صدیقی |
| پیدائش | 15 جنوری 1908ء | سیوہارہ، ضلع بجنور |
| فن | شاعر |
| زبان | اردو |
| شہریت | پاکستان |
حالات زندگی
نام حبیب احمد صدیقی ، تخلص حبیب۔ ۱۵؍جنوری ۱۹۰۸ء کو سیوہارہ ، ضلع بجنور(یوپی) میں پیدا ہوئے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ۱۹۲۹ء میں ایم اے انگریزی اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کیے۔ ملازمت کا آغاز ڈپٹی کلکٹری کے عہدے سے ہوا۔ ملازمت کے سلسلے میں گورکھپور، کان پور، لکھنؤ مختلف مقامات میں رہے۔ ترقی کرکے نینی تال کے کمشنر کے عہدے پر فائز رہے۔ یوپی پبلک سروس کمیشن کے ممبر بھی رہے۔۱۹۶۹ میں پاکستان آ گئے۔ آپ کے کلام کے دو مجموعے’’جلوۂ صد رنگ‘‘ اور ’’گل صد برگ‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔ آپ وفات پاچکے ہیں۔
نمونہ کلام
غزل
| خزاں نصیب کی حسرت بروئے کار نہ ہو |
| بہار شعبدۂ چشم انتظار نہ ہو |
| فریب خوردۂ الفت سے پوچھئے کیا ہے |
| وہ ایک عہد محبت کہ استوار نہ ہو |
| نظر کو تاب نظارہ نہ دل کو جرأت دید |
| جمال یار سے یوں کوئی شرمسار نہ ہو |
| قبا دریدہ و دامان و آستیں خونیں |
| گلوں کے بھیس میں یہ کوئی دل فگار نہ ہو |
| نہ ہو سکے گا وہ رمز آشنائے کیف حیات |
| جو قلب چشم تغافل کا رازدار نہ ہو |
| طریق عشق پہ ہنستی تو ہے خرد لیکن |
| یہ گمرہی کہیں منزل سے ہمکنار نہ ہو |
| نہ طعنہ زن ہو کوئی اہل ہوش مستوں پر |
| کہ زعم ہوش بھی اک عالم خمار نہ ہو |
| وہ کیا بتائے کہ کیا شے امید ہوتی ہے |
| جسے نصیب کبھی شام انتظار نہ ہو |
| یہ چشم لطف مبارک مگر دل ناداں |
| پیام عشوۂ رنگیں صلائے دار نہ ہو |
| کسی کے لب پہ جو آئے نوید زیست بنے |
| وہی حدیث وفا جس پہ اعتبار نہ ہو |
| جو دو جہان بھی مانگے تو میں نے کیا مانگا |
| وہ کیا طلب جو بقدر عطائے یار نہ ہو |