امام احمد رضا خاں بریلوی
1856-1921 | بریلی، انڈیا
معروف عالم دین، مصنف اور شاعر
| امام احمد رضا خان بریلوی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائشی نام | (عربی میں: محمد)، (انگریزی میں: Muhammad)، (اردو میں: محمد) |
| پیدائش | 14 جون 1856ء بریلی |
| وفات | 28 اکتوبر 1921ء (65 سال) بریلی |
| مدفن | درگاہ اعلیٰ حضرت ، بریلی |
| رہائش | بریلی |
| شہریت | برطانوی ہند |
| مذہب | اسلام |
| فرقہ | سنی |
| فقہی مسلک | حنفی |
| زوجہ | ارشاد بیگم |
| اولاد | حامد رضا خان، مصطفٰی رضا خان، مصطفائی بیگم، کنیز حسن، کنیز حسنین، کنیز حسین اور مرتضائی بیگم |
| تعداد اولاد | 2 |
| والد | نقی علی خان |
| والدہ | حسینی خانم |
| بہن/بھائی | حسن رضا خان |
| مناصب | |
| مفتی اعظم | |
| برسر عہدہ 1880 – 1921 | |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | گھریلو درس |
| تعلیمی اسناد | مفتی |
| استاذ | نقی علی خان |
| تلمیذ خاص | ظفر الدین بہاری ، مفتی امجد علی اعظمی |
| پیشہ | محدث ، مترجم ، نعت خواں ، شاعر ، ریاضی دان ، مصنف |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| شعبۂ عمل | فقہ ، فتوی ، نعت ، حدیث |
| کارہائے نمایاں | فتاویٰ رضویہ ، کنز الایمان ، حدائق بخشش ، جامعہ رضویہ منظر اسلام |
| مؤثر | امام ابو حنیفہ، عبد القادر جیلانی، رومی، نقی علی خان، شاہ عبدالحق، فضل حق خیر آبادی |
| متاثر | پیر سیف الرحمن مبارک، مصطفٰی رضا خان، احمد سعید کاظمی، عبد العلیم صدیقی، مولانا شاہ احمد نورانی، محمد اختر رضا خان قادری، ضیاء الدین مدنی، محمد الیاس قادری، قمر الزمان اعظمى، محمد عبدالحکیم شرف قادری، محمد ارشد القادری، خادم حسین رضوی |
| تحریک | بریلوی مکتب فکر ، قادریہ |
سوانح
احمد رضا خاں کی پیدائش 14 جون 1856ء کو بریلی میں ہوئی۔ دینی علوم کی تکمیل گھر پر اپنے والد مولوی نقی علی خان سے کی۔ دو مرتبہ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ درس و تدریس کے علاوہ مختلف علوم و فنون پر کئی کتابیں اور رسائل تصنیف و تالیف کیے۔ قرآن کا اردو ترجمہ بھی کیا جو کنز الایمان کے نام سے مشہور ہے۔ علوم ریاضی و جفر میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ شعر و شاعری سے بھی لگاؤ تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بہت سی نعتیں اور سلام لکھے ہیں۔ انھوں نے عربی، فارسی اور اردو میں ایک ہزار کے قریب کتابیں تصنیف کیں۔ بعض جگہ ان کتابوں کی تعداد چودہ سو ہے۔ ان کی سب سے بڑی کتاب کا نام فتاوی رضویہ ہے، جس کی بتیس جلدیں ہیں، یہ ان کے فتاوی کا مجموعہ ہے۔
تصانیف
بیسویں صدی عیسوی کے مجدد، نامور حنفی فقہیہ، محدث، اصولی، نعت گو شاعر، علوم نقلیہ وعقلیہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ کے شیخ، عربی، فارسی اور اردو کی کثیر کتابوں کے مصنف جن میں مشہور ترجمہ قرآن کنزالایمان، فتاوی کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ اور نعتیہ دیوان حدائق بخشش مشہور ہیں۔
وفات
25 صفر 1340ھ مطابق 1921ء کو جمعہ کے دن ہندوستان کے وقت کے مطابق 2 بج کر 38 منٹ پر عین اذان کے وقت ادھر موذن نے حی الفلاح کہا اور ادھر امام احمد رضا خان نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ احمد رضا خان کی قبر بریلی میں ہے۔