احمد فرہاد
1986 | کشمیر، پاکستان
معروف اردو شاعر اور صحافی
| احمد فرہاد | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | سید فرہاد علی شاہ |
| پیدائش | 25 دسمبر 1986ء | ضلع باغ ، آزاد کشمیر |
| والد کا نام | سید محمد حسین شاہ |
| پیشہ | شاعر، صحافی |
| زبان | اردو |
| شہریت | پاکستان |
حالات زندگی
سید احمد فرہاد (اصل نام: سید فرہاد علی شاہ) 25 دسمبر 1986ء کو باغ، آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اردو اور انگریزی ادب میں ماسٹر کیا۔ شاعری کی ابتداء باغ کے ادبی ماحول میں ہوئی بعد ازاں یہ ادبی سفر راولپنڈی کے حلقوں میں بھی پروان چڑھا۔
ادبی خدمات
احمد فرہاد کی شاعری ابتدائی دنوں میں ہی قارئین کے لیے تازگی اور حیرت کا سبب بنی۔ ان کے اشعار نہ صرف رومانوی بلکہ فکری اور وجودی سوالات سے بھی بھرپور تھے:
| تمام شہر کو حیران کرنے والا ہوں |
| میں اپنے ہونے کا اعلان کرنے والا ہوں |
یہ الفاظ خود نمائی کی بجائے تخلیقی اعتماد کی علامت تھے۔ احمد فرہاد کی شاعری میں وقت، محبت، درد، اور تنہائی کے استعارے بار بار سامنے آتے ہیں، مگر ہر بار ایک نئے مفہوم کے ساتھ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف شاعر نہیں بلکہ معنی آفرین شاعر ہیں۔
احمد فرہاد نے پاکستان کے بڑے ٹی وی چینلز کے لیے بطور کنٹینٹ رائٹر، اسکرپٹ رائٹر، پروڈیوسر اور کری ایٹو رائٹر کام کیا۔ انہوں نے بے شمار گانے، نظمیں اور اسکرپٹس تخلیق کیے، جو مشہور گلوکاروں کی آواز میں عوام تک پہنچے۔
عالمی اعتراف
13 اپریل 2025 کو احمد فرہاد کو ہالینڈ کے Poetry International کی جانب سے “Poet in Residence” کے لیے دعوت دی گئی۔ یہ نامزدگی Amnesty International کی طرف سے ہوئی۔ اس کے ساتھ انہیں 52 روزہ ادبی قیام، انٹرویوز، تقاریب، ورکشاپس اور عالمی پوئٹری فیسٹیول میں شرکت کی دعوت دی گئی یہ اعزاز عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور پابلو نرودا جیسے نامور شعرا کو بھی حاصل ہوا ہے۔
عوامی اور سیاسی سطح پر اعتراف
27 جون 2024 کو احمد فرہاد نے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کے عشائیے میں شرکت کی، جہاں وہ متعدد پارلیمنٹیرینز اور سینئر صحافیوں سے ملاقات کے موقع پر موجود رہے
تصانیف
- تمہیں محبت پکارتی ہے (انتخاب)
- کامیابی (تراجم)
- ویکی لیکس کے انکشافات (تراجم)
- سر کٹنے کے موسم میں (شاعری)
- منٹو نے (منٹو کے افسانوں پر تعارفیے)
نمونہ کلام
غزل
| یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے اسے اُٹھا لو |
| ”اُٹھانے والوں ” سے کچھ جدا ہے اِسے اُٹھا لو |
| وہ بے ادب اس سے پہلے جن کو اُٹھا لیا تھا |
| یہ ان کے بارے میں پوچھتا ہے اِسے اُٹھا لو |
| اسے بتایا بھی تھا کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں |
| مگر یہ اپنی ہی بولتا ہے اِسے اٹھا لو |
| جنہیں ” اُٹھانے ” پہ ہم نے بخشے مقام و خلعت |
| یہ اُن سیانوں پہ ہنس رہا ہے اسے اٹھا لو |
| یہ پوچھتا ہے کہ امن ِ عامہ کا مسئلہ کیوں |
| یہ امن ِ عامہ کا مسئلہ ہے اِسے اٹھا لو |
| اِسے کہا تھا جو ہم دکھائیں بس اُتنا دیکھو |
| مگر یہ مرضی سے دیکھتا ہے اِسے اٹھا لو |
| سوال کرتا ہے یہ دوانہ ہماری حد پر |
| یہ اپنی حد سے گزر گیا ہے اسے اٹھا لو |
غزل
| کافر ہوں سر پھرا ہوں مجھے مار دیجئے |
| میں سوچنے لگا ہوں مجھے مار دیجئے |
| ہے احترام حضرت انسان میرا دین |
| بے دین ہو گیا ہوں مجھے مار دیجئے |
| میں پوچھنے لگا ہوں سبب اپنے قتل کا |
| میں حد سے بڑھ گیا ہوں مجھے مار دیجئے |
| کرتا ہوں اہل جبہ و دستار سے سوال |
| گستاخ ہو گیا ہوں مجھے مار دیجئے |
| خوشبو سے میرا ربط ہے جگنو سے میرا کام |
| کتنا بھٹک گیا ہوں مجھے مار دیجئے |
| معلوم ہے مجھے کہ بڑا جرم ہے یہ کام |
| میں خواب دیکھتا ہوں مجھے مار دیجئے |
| زاہد یہ زہد و تقویٰ و پرہیز کی روش |
| میں خوب جانتا ہوں مجھے مار دیجئے |
| بے دین ہوں مگر ہیں زمانے میں جتنے دین |
| میں سب کو مانتا ہوں مجھے مار دیجئے |
| پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ہو کا شور |
| میں آخری صدا ہوں مجھے مار دیجئے |
| میں ٹھیک سوچتا ہوں کوئی حد میرے لیے |
| میں صاف دیکھتا ہوں مجھے مار دیجئے |
| یہ ظلم ہے کہ ظلم کو کہتا ہوں صاف ظلم |
| کیا ظلم کر رہا ہوں مجھے مار دیجئے |
| زندہ رہا تو کرتا رہوں گا ہمیشہ پیار |
| میں صاف کہہ رہا ہوں مجھے مار دیجئے |
| جو زخم بانٹتے ہیں انہیں زیست پہ ہے حق |
| میں پھول بانٹتا ہوں مجھے مار دیجئے |
| بارود کا نہیں مرا مسلک درود ہے |
| میں خیر مانگتا ہوں مجھے مار دیجئے |