احمد ظفر
1926-2001 | گوجرانوالہ ، پاکستان
اردو اور پنجابی شاعر
| احمد ظفر | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | ظفر علی احمد |
| تخلص | ظفر |
| پیدائش | 13 نومبر 1926ء | راولپنڈی |
| وفات | اگست 2001ء | گوجرانوالہ ، پاکستان |
| فن | شاعر |
| زبان | اردو، پنجابی |
| شہریت | پاکستان |
پیدائش
نام ظفر علی احمد، قلمی نام احمد ظفرؔ اور ظفرؔ تخلص تھا۔ 13 نومبر 1926ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔
ملازمت
ملازمت کے سلسلے میں راولپنڈی میں مقیم رہے
تصانیف
- حسنِ خزاں (شعری مجموعہ)
- دلِ دو نیم (شعری مجموعہ)
- وابستہ (حمدونعت)
- لامحدود (حمد ونعت)
- صفات ( حمد ونعت)
- داستاں داستاں
- نذر غالب
- مجسمے اور دریچے
- لازوال
- بیلے بیلے (پنجابی )
- اکھ دریا وچ سورج بولے ( پنجابی)
وفات
16 اگست 2001ء کو گوجرانوالہ میں انتقال کر گئے
نمونہ کلام
نعت شریف
| صحرا حضور آپ کے دم سے چمن ہوا |
| پتھر کا یہ نصیب کہ وہ گلبدن ہوا |
| رحمت کے باب کھول دیے ہیں حضور نے |
| سورج سے فیض یاب مہِ سیم تن ہوا |
| تاریکی حیات کا منظر بدل گیا |
| نورِ ازل ہویدا سرِ انجمن ہوا |
| تکمیل کی ہے آپ نے خلقِ عظیم کی |
| بڑھ کر نہ کوئی آپ سے شیریں دُہن ہوا |
| میرے حضور جس کے لیے بے وطن ہوئے |
| تہذیب کے لیے وہی خطہ وطن ہوا |
| جب بھی یسا ہے اسمِ گرامی حضور کا |
| دِل تیرگی شب میں سحر کی کرن ہوا |
| پیغمروں کے قافلہ سالار آپ ہیں |
| رتبہ یہ آپ کا کہ خدا ہم سُخن ہوا |
| یہ آپ کا کرم ہے مرے حال پر حضور |
| میں بے ہنر تھا، نعت مگر میرا فن ہوا |
غزل
| اور کیا میرے لیے عرصۂ محشر ہوگا |
| میں شجر ہوں گا ترے ہاتھ میں پتھر ہوگا |
| یوں بھی گزریں گی ترے ہجر میں راتیں میری |
| چاند بھی جیسے مرے سینے میں خنجر ہوگا |
| زندگی کیا ہے کئی بار یہ سوچا میں نے |
| خواب سے پہلے کسی خواب کا منظر ہوگا |
| ہاتھ پھیلائے ہوئے شام جہاں آئے گی |
| بند ہوتا ہوا دروازۂ خاور ہوگا |
| میں کسی پاس کے صحرا میں بکھر جاؤں گا |
| تو کسی دور کے ساحل کا سمندر ہوگا |
| وہ مرا شہر نہیں شہر خموشاں کی طرح |
| جس میں ہر شخص کا مرنا ہی مقدر ہوگا |
| کون ڈوبے گا کسے پار اترنا ہے ظفرؔ |
| فیصلہ وقت کے دریا میں اتر کر ہوگا |
غزل
| یوں زمانے میں مرا جسم بکھر جائے گا |
| مرے انجام سے ہر پھول نکھر جائے گا |
| جام خالی ہے صراحی سے لہو بہتا ہے |
| آج کی رات وہ مہتاب کدھر جائے گا |
| سیل گریہ مری آنکھوں سے یہ کہہ جاتا ہے |
| بستیاں روئیں تو دیا بھی اتر جائے گا |
| تو کوئی ابر گہربار سمندر کے لیے |
| دل کے صحرا سے جو چپ چاپ گزر جائے گا |
| آج یہ زلف پریشاں ہے زمانے کے لیے |
| کل یہی دور کسی طور سنور جائے گا |
| تیری ہر بات پہ مر جاتا ہوں مرتا بھی نہیں |
| کہ مری موت میں انساں کوئی مر جائے گا |
| اشک موتی سے بکھر جائیں گے راہوں میں جہاں |
| سوئے منزل بھی مرا دیدۂ تر جائے گا |
| میں مکیں ہوں نہ مکاں شہر محبت کا ظفرؔ |
| دل مسافر نہ کسی غیر کے گھر جائے گا |
احمد بشیر کی کتابیں
کوئی مواد موجود نہیں۔
احمد فراز کی کتابیں
صفحہ 1